بالائے طاق

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - لفظاً طاق پر رکھا ہوا، (مراداً) کنارے، الگ، علیحدہ، جو نظرانداز ہو۔  روشنی طبع وہ مجھ میں کہاں ہے دوستو شمع مردہ ہوں مجھے رہنے دو اب بالائے طاق      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٢٣٣:٣ )

اشتقاق

فارسی حرف جار 'بالائے' اور عربی اسم 'طاق' سے مرکب ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٠ء میں دیوان اسیر میں مستعمل ملتا ہے۔